بنگلورو۔21؍دسمبر(ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے سی آئی ڈی کو کانگریس کا ایک آلۂ کار قرار دیتے ہوئے ہر معاملہ کی جانچ سی آئی ڈی کو دینے حکومت کے فیصلے پر نکتہ چینی کی ۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا سی آئی ڈی کا استعمال جسے چاہے اسے کلین چٹ دینے اور سیاسی حریفوں کو ہراساں کرنے کیلئے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈی وائی ایس پی گنپتی کی خود کشی میں ریاستی وزیر کے جے جارج کو اور ٹیپو سلطان جینتی تقریبات میں فحش مناظر دیکھنے کے مرتکب تنویر سیٹھ کو اسی سی آئی ڈی نے کلین چٹ دی ہے۔ اب سیکس اسکینڈل میں ملوث ہوکر وزارت سے مستعفی ہونے والے ایچ وائی میٹی کا معاملہ بھی سی آئی ڈی کے سپرد کیاگیا ہے، ممکن ہے کہ اس معاملے میں بھی سی آئی ڈی میٹی کو کلین چٹ دے دے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں سدرامیا حکومت کا کرپشن اپنی تمام حدود کو پار کرچکا ہے عنقریب کرپشن میں ملوث وزراء کی فہرست منظر عام پر آنے والی ہے۔ دیکھنا ہے کہ اس فہرست کے منظر عام پر آنے کے بعد مزید کتنے وزراء استعفیٰ دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ غیر قانونی آمدنی کے الزام میں گرفتار سرکاری افسران چک رایپا اور جئے چندرا نے پوچھ تاچھ کے دوران بعض وزراء کے نام لئے ہیں۔ ان تمام کو کابینہ سے بے دخل کرنے کی تیاری وزیراعلیٰ سدرامیا کو کرلینی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ محکمۂ انکم ٹیکس ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور سی بی آئی کی طرف سے جو پوچھ تاچھ کرائی جارہی ہے ، وزیر اعلیٰ سدرامیا اس ساری کارروائی کو کمزور کرنے کیلئے سی آئی ڈی کو استعمال میں لارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹکا پبلک سرویس کمیشن کے چیرمین شام بھٹ نے بڑے پیمانے پر لوٹ مچانے کا منصوبہ بنایا ہے، اسی لئے کسی بھی سرکاری عہدہ کے تقرر کا نوٹی فکیشن اب تک جاری نہیں ہوا ہے۔ تحریری امتحان کی بنیاد پر بھرتیوں کی پہل کی جارہی ہے۔ مرکیرہ میں قبائلیوں کی باز آباد کاری کیلئے فوری اقدامات کا بھی شٹر نے مطالبہ کیا اور کہاکہ ان قبائلیوں کے مکانات کو منہدم کرنے کے سلسلے میں حکومت کا اقدام درست نہیں ہے۔